Saturday, October 22, 2011

Daily Jang & Dr Safdar Mehmood Quote Blasphemous Sufis - Part - 1.

If you talk of Islam and Excellent books then for Guidance [Hidayat] only Two sources are sufficient enough i.e. Quran and Hadith [for day to day advices Riaz As Salehen, Al Lu Lu Al Marjan and Mishkat (These three books are Compilation of Authentic and Verified Hadiths] and any other book which we cannot corroborate with Quran and Rightful Sunnah can only be called Bida’at [Innovation] Sufi books like Kashf Al Mahjub by Ali Hajweri, Ahya ul Uloom by Ghazali, Mathnavi by Rumi, Fissusl Hikm and Fathoohat-e-Makki by Ibn Arabi, Tawaseen by Mansoor Al Hallaj and last but not the least Ghunyatut Talibeen by Abdul Qadir Jeelani are full of False, Concocted, Fabricated and Weak Hadiths.

Dr. Masooduddin Usmani Exposes Blasphemous Barelvis-Deobandis.

video

Monday, October 17, 2011, Ziqad 18, 1432 A.H.
http://www.jang.com.pk/jang/oct2011-daily/17-10-2011/col5.htm














Saturday, October 22, 2011, Ziqad 23, 1432 A.H.
http://www.jang.com.pk/jang/oct2011-daily/22-10-2011/col2.htm









Brazen Blasphmey were committed by Abul Hassan Ali Ibn Usman al-Jullabi al-Hajvery al-Ghaznawi (ابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الهجویری الغزنوی) or Abul Hassan Ali Hajvery (sometimes spelled Hujwiri, Hajweri, Hajveri), also known as Daata Ganj Bakhsh (Persian/Punjabi: (داتا گنج بخش) (which means the master who bestows treasures) or Daata Sahib (Persian/Urdu: (داتا صاحب), from a book Emaan-e-Khalis by Late. Captain (R). Dr Masooduddin Usmani http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist.htm























http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist57.htm
























http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist58.htm
























http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist59.htm
























http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist60.htm




http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist69.htm
























http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist70.htm
























http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist71.htm
























http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist72.htm





http://www.emanekhalis.com/emanqist1/emangist73.htm


Ali Hajweri [alleged Data] arrived in Lahore on the orders of Masood Ghaznavi and Lahore was under the rule of Masood Ghaznavi [s/o Mehmood Ghaznavi] and Ghaznavis have themselves appointed Hindu Governor for Lahore. By the way Three Top Generals in Ghaznavi’s Army were hindu. Sufi Master of Al Hajweri i.e Shiekh Abul Fazal had ordered Ali Hajweri to go to “Hind” to wipe out “Idolatry and Polytheism” [Sheikh of DATA forgot to send Ali Hajweri to Banaras [Holy City of Vedanta] and Sheikh Abu Fazal also “forgot to predict” that in 21st Century Hindus and Sikh would often visit DATA DARBAR. [What happened to the mission of Sheikh Abul Fazal for which he deputed Ali Hajweri i.e. to wipe out "Idolatry and Polytheism" ]. Pakistanis wanted to Demolish “House of Idols [Buth Kada-e-Hind] whereas same Pakistan worship Muslim Idols in Pakistan. Ali Hajweri aka DATA was misogynist to the core and he used to declare that Women is responsible for every Evil in this world [this ideology is of Jews and Christians]. The alleged Data was basically a Women Hater to the core and his books are full of such Hate Speech against Woman [DATA remained bachelor all his life]. {Books of Alleged Data: Kashf Al Mahjoob, Kashf Al Asrar, Minhaj Al Deen, Al Bayan La Ahlil Ayan} These Mullahs [read Sufis] have only one Role for women while discussing women they [DATA too] forget that Women is also Mother, Daughter and Sister. DATA [Provider is only Allah], Ghaus [Is only Allah], Dastgeer [is only Allah]. Muslim Scholars of Lahore Objected on the direction of Kabah when a Mosque was being built in Lahore and Ali Hajweri through his “Miracle” arranged that the Kaabah is seen in Lahore. [Prophet Mohammad (PBUH) was a Prophet from Allah and he [PBUH] couldn’t do that during Hudaybiya Treaty and had to go back. These Sufis have made a mockery of Islam in their False Teaching. For Reference: reading Aab-e-Kausar by Sheikh Ikram published in 1947 and 23 edition are published after partition by Darus Saqafat-e-Islamia Lahore – And on the Reality of Alleged Data read Shariat Aur Tareeqat by Abdul Rahman Kailani [you will be amazed to know the discrepancy as to how these Tazkaras and Malfoozat of Sufis are compiled without even bothering about to check the authenticity of Ali Hajweri's arrival in Lahore, Zanjani's time of Death and even Ali Hajweri's alleged services for Islam] - Sufis link their Chain to Hazrat Hasan Basari [May Allah have mercy on his soul] and Sufi says that Hasan Basri was given this “Sufi Science” by Hazrat Ali [May Allah be pleased with him] whereas no meeting ever took place between Hazrat Ali [RA] and Hasan Basari. Therefore this Drama of Sufism and Sufi [DATA INCLUDED] is nothing but Bida’at in Islam which started after 300 years of Prophet Mohammad [PBUH] – Origin of this term Sufi is not even known in Arabic Grammar. [Ref: Talbees Iblees [The Devil's Deception - by Abul Faraj ibn Al Jawzi]

Ali Hajweri the alleged "Data Ganj Bakhsh" and his so-called Role in Spreading Islam




The Saints of South Asian Models are as under:

Allama Iqbal's secret meeting with saints


URL: http://www.youtube.com/watch?v=5InKreewK1Y

حلاج کا نام حسین بن منصور الحلاج اور کنیت ابومغیث ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کی کنیت ابوعبداللہ تھی ۔

اس نے واسط شہر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ تستر شہر میں پرورش پائ اورصوفیوں کی ایک جماعت کے ساتھ میل جول رکھا جن میں سھل تستری اور جنید اورابوالحسن نوری وغیرہ شامل ہيں ۔

اس نے بہت سے ممالک کے سفر کیے جن میں مکہ ، خراسان شامل ہیں ، اورھندوستان سےجادو کا علم حاصل کیا اوربالآخر بغداد میں رہائش اختیار کی اور وہیں پرقتل ہوا ۔

انڈیا میں جادو سیکھا اوریہ بہت ہی حیلے اوردھوکہ باز تھا ، لوگو ں کو ان کی جہالت کی بنا پربہت سے لوگوں کودھوکہ دیا اورانہیں اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوگيا حتی کہ لوگوں نے سمجھنا شروع کردیا کہ یہ اللہ تعالی کا بہت بڑا ولی ہے ۔

عام مستشرقین ( وہ کافر جومسلمانوں کا لبادہ اوڑھے ہوۓ ہیں ) کے ہاں یہ بہت مقبول ہے اوروہ اسے مظلوم سمجھتے ہيں کہ اسے قتل کردیاگیا ، اور اس کا سبب اس کا وہ عیسا‏ئ کلام اورتقریبا انہی کا عقیدہ ہے جس کا اعتقاد رکھتا تھا ، اس کے عقیدہ کا بیان آگے چل کر ذکر کیا جاۓ گا ۔

بغداد میں اسے زندیق اور کافر ہونے کی بنا پرجس کا اس نے خود بھی اقرار کیا تھا 309 ھ میں قتل کردیا گیا ۔

اوراس وقت کے علماء کرام نے اس کے قتل پراجماع کرلیا تھا کہ اس کے کفافراورزندیق ہونے کی بنا پریہ واجب القتل ہے ۔

اب آپ کے سامنے اس کے بعض اقوال پیش کیے جاتے ہیں جن کی بنا وہ مرتدہوکر واجب القتل ٹھرا :

1 - نبوت کا دعوی :

اس نے نبوت کا دعوی کیا حتی کہ وہ اس سے بھی اوپر چلا گیا اور پھر وہ یہ دعوی کرنے لگا یہ وہ ہی اللہ ہے ، ( نعوذباللہ ) تووہ یہ کہا کرتا کہ میں اللہ ہوں ، اوراس نے اپنی بہو کوحکم دیا کہ وہ اسے سجدہ کرے تواس نے جواب دیا کہ کیا غیراللہ کوبھی سجدہ کیا جاتا ہے ؟

توحلاج کہنے لگا ایک الہ آسمان میں ہے اورایک الہ زمین میں ۔

2 - حلول اوروحدت الوجود کا عقیدہ

حلاج حلول اوروحدت الوجود کا عقیدہ رکھتا تھا یعنی اللہ تعالی اس میں حلول کرگيا ہے تووہ اوراللہ تعالی ایک ہی چیز بن گۓ ہیں ، اللہ تعالی اس جیسی خرافات سے پاک اوربلند وبالا ہے ۔

اوریہی وہ عقیدہ اوربات ہے جس نے حلاج کومستشرقین نصاری کے ہاں مقبولیت سے نوازا اس لیے کہ اس نے ان کے اس عقیدہ حلول میں ان کی موافقت کی ، وہ بھی تویہی بات کہتےہیں کہ اللہ تعالی عیسی علیہ السلام میں حلول کرگيا ہے ۔

اورحلاج نے بھی اسی لیے لاھوت اورناسوت والی بات کہی ہے جس طرح کہ عیسا‏ئ کہتے ہيں حلاج اپنے اشعار میں کہتا ہے :

پاک ہے وہ جس نے اپنے ناسوت کوروشن لاھوت کے رازسے ظاہرکیا پھر اپنی مخلوق میں کھانے اورپینے والا بن کر ظاہرہوا ۔

جب ابن خفیف رحمہ اللہ تعالی نے یہ اشعاد سنے توکہنے لگے ان اشعار کے قائل پر اللہ تعالی کی لعنت برسے ، توان سے کہا گيا کہ یہ اشعار تو حلاج کے ہیں ، تو ان کا جواب تھا کہ اگر اس کا یہ عقیدہ تھا تووہ کافر ہے ۔ اھـ

3 - قرآن جیسی کلام بنانے کا دعوی :

حلاج نے ایک قاری کوقرآن مجید پڑھتے ہوۓ سنا توکہنے لگا اس طرح کی کلام تومیں بھی بنا سکتا ہوں ۔

4 - کفریہ اشعار :

اس کے کچھ اشعار کا ترجمہ یہ ہے :

اللہ تعالی کے متعلق لوگوں کے بہت سارے عقیدے ہیں ، میں بھی وہ سب عقیدے رکھتا ہوں جو پوری دنیا میں لوگوں نے اپنا رکھے ہیں ۔

یہ اس کی ایک ایسی کلام ہے جس میں اس نے دنیامیں پاۓ جانے والےگمراہ فرقوں میں پاۓ جانے والے ہرقسم کے کفر کا اقرار اوراعتراف کیا ہے کہ اس کا بھی وہی کفریہ عقیدہ ہے ، لیکن اس کے باوجود یہ ایک کلام ہے جس میں تناقض پایا جاتا ہے جسے صریحا عقل بھی تسلیم نہیں کرتی ، تویہ کیس ہو سکتا ہے کہ ایک ہی وقت میں توحید اور شرک کا عقید رکھا جاۓ یعنی وہ موحد بھی ہواور مشرک بھی ؟

5 - ارکان اورمبادیات اسلام کے مخالف کلام :

حلاج نے ایسی کلام کی جو کہ ارکان اورمبادیات اسلام کوباطل کرکے رکھ دیتی ہے یعنی نماز ، روزہ اورحج اورزکاۃ کوختم کرکے رکھ دے ۔

6 - مرنے کے بعد انبیاء کی روحوں کا مسئلہ :

اس کا کہنا تھا کہ انبیاء کے مرنے کے بعد ان کی روحيں ان کے صحابہ اورشاگردوں کے اجسام میں لوٹادی جاتی ہیں ، وہ کسی کو کہتا کہ تم نوح علیہ السلام اور دوسر ے کو موسی علیہ السلام قرار دیتا اور کسی اور شخص کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔

7 - جب اسے قتل کے لیے لیجایا رہا تھا تووہ اپنے دوست واحباب کو کہنے لگا تم اس سے خوف محسوس نہ کرو ، بلاشبہ میں تیس روز بعد تمہارے پاس واپس آجاؤں گا ، اسے قتل کردیا گیا تووہ کبھی بھی واپس نہ آسکا ۔

توان اوراس جیسے دوسرے اقوال کی بنا پراس وقت کےعلماء نےاجماعا اس کے کفراور زندیق ہونے کا فتوی صادر کیا ، اوراسی فتوی کی وجہ سے اسے 309 ھـ میں بغداد کے اند قتل کردیا گيا ، اوراس طرح اکثر صوفی بھی اس کی مذمت کرتے اوریہ کہتے ہیں کہ وہ صوفیوں میں سے نہیں ، مذمت کرنے والوں میں جنید ، اور ابوالقاسم شامل ہیں اورابوالقاسم نے انہیں اس رسالۃ جس میں صوفیاء کے اکثر مشائخ کا تذکرہ کیا ہے حلاج کوذکر نہیں کیا ۔

اسے قتل کرنے کی کوشش کرنے والوں میں قاضی ابوعمر محمد بن یوسف مالکی رحمہ اللہ تعالی شامل ہیں انہیں کی کوششوں سے مجلس طلب کی گئ اور اس میں اسے قتل کا مستحق قرار دیا گیا ۔

ابن کثير رحمہ اللہ تعالی نے البدایۃ والنھایۃ میں ابوعمرمالکی رحمہ اللہ تعالی کی مدح سرائ کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ان کے فیصلے بہت ہی زیادہ درست ہوتے اور انہوں نے ہی حسین بن منصورالحلاج کوقتل کیا ۔ ا ھـ دیکھیں البدایۃ والنھایۃ ( 11 / 172 ) ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :

جس نے بھی حلاج کے ان مقالات جیسا عقیدہ رکھا جن پروہ قتل ہوا تووہ شخص بالاتفاق کافراور مرتد ہے اس لیے کہ حلاج کومسلمانوں نےحلول اوراتحاد وغیرہ کا عقیدہ رکھنے کی بنا پرقتل کیا تھا ۔

جس طرح کہ زندیق اوراتحادی لوگ یہ کہتے ہیں مثلا حلا ج یہ کہتا تھا کہ :: میں اللہ ہوں ، اور اس کا یہ بھی قول ہے : ایک الہ آسمان میں ایک زمین میں ہے ۔

اورحلاج کچھ خارق عادت چیزوں اور جادو کی کئ ایک اقسام کا مالک تھا اوراس کی طرف منسوب کئ ایک جادو کی کتب بھی پائ جاتی ہیں ، تواجمالی طورتوامت مسلمہ میں اس کے اندر کوئ اختلاف نہيں کہ جس نے بھی یہ کہا کہ اللہ تعالی بشرمیں حلول کرجاتا اور اس میں متحد ہوجاتا ہے اوریا یہ کہ انسان الہ ہوسکتا ہے اوریہ معبودوں میں سے ہے تووہ کافر ہے اوراس کا قتل کرنا مباح ہے اوراسی بات پرحلاج کوبھی قتل کیاگیا تھا ۔ اھـ دیکھیں : مجموع الفتاوی ( 2 / 480 ) ۔

اورایک جگہ پرشیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی نے یہ کہا ہے کہ :

ہم مسلمان علماء میں سے کسی ایک عالم اورنہ ہی مشائخ میں سے کسی ایک شیخ کوبھی نہیں جانتے جس نے حلاج کا ذکر خیر کیا ہو ، لیکن بعض لوگ اس کے متعلق خاموشی اختیارکرتے ہيں اس لیے کہ انہیں حلاج کے معاملے کا علم ہی نہیں ۔ اھـ دیکھیں مجموع الفتاوی ( 2 / 483 )۔

معلومات میں مزید استفادہ کے لیے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ کریں :

خطیب بغدادی رحمہ اللہ تعالی کی : تاریخ بغداد ( 8 / 112- 141 )

ابن جوزي رحمہ اللہ تعالی کی المنتظم ( 13/ 201 -206 ) ۔

امام ذھبی رحمہ اللہ تعالی کی سیر اعلام النبلاء ( 14 / 313- 354 ) ۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کی البدایۃ والنھايۃ ( 11 / 132- 144 ) ۔

اللہ تعالی ہی سیدھے راہ کی راہنمائ کرنے والا ہے ۔

واللہ تعالی اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد

الحلاج هو الحسين بن منصور الحلاج ، ويكنى أبا مغيث . وقيل : أبا عبد الله .

نشأ بواسط . وقيل بتستر ، وخالط جماعة من الصوفية منهم سهل التستري والجنيد وأبو الحسن النوري وغيرهم .

رحل إلى بلاد كثيرة ، منها مكة وخراسان ، والهند وتعلم السحر بها ، وأقام أخيراً ببغداد ، وبها قتل .

تعلم السحر بالهند ، وكان صاحب حيل وخداع ، فخدع بذلك كثيراً من جهلة الناس ، واستمالهم إليه ، حتى ظنوا فيه أنه من أولياء الله الكبار .

له قبول عند عامة المستشرقين ويظهرونه على أنه قتل مظلوماً ، وذلك لما سيأتي من أن اعتقاده قريب من اعتقاد النصارى ، ويتكلم بكلامهم .

قتل ببغداد عام 309 هـ بسبب ما ثبت عنه بإقراره وبغير إقراره من الكفر والزندقة .

وأجمع علماء عصره على قتله بسبب ما نقل عنه من الكفر والزندقة .

وها هي بعض أقواله :

1- ادعى النبوة ، ثم تَرَقَّى به الحال أن ادعى أنه هو الله . فكان يقول : أنا الله . وأمر زوجة ابنه بالسجود له . فقالت : أو يسجد لغير الله ؟ فقال : إله في السماء وإله في الأرض .

2- كان يقول بالحلول والاتحاد . أي : أن الله تعالى قد حَلَّ فيه ، وصار هو والله شيئاً واحداً . تعالى الله عن ذلك علواً كبيراً.

وهذا هو الذي جعل له القبول عن المستشرقين النصارى لأنه وافقهم على الحلول ، إذ إنهم يعتقدون في عيسى عليه السلام أن الله تعالى قد حَلَّ فيه . ولهذا تكلم الحلاج باللاهوت والناسوت كما يفعل النصارى . فمن أشعاره :

سبحان مـن أظهر ناسوته سـر لاهوته الثاقـــب

ثم بدا في خلقـه ظــاهراً في صورة الآكل والشارب

ولما سمع ابن خفيف هذه الأبيات قال : على قائل هذا لعنة الله . فقيل له : هذا شعر الحلاج . فقال : إن كان هذا اعتقاده فهو كافر اهـ

3- سمع قارئاً يقرأ آية من القرآن ، فقال : أنا أقدر أن أؤلف مثل هذا .

4- من أشعاره :

عَقَدَ الخلائقُ في الإله عقائدا وأنا اعتقدتُ جميعَ ما اعتقدوه

وهذا الكلام مع تضمنه إقراره واعتقاده لجميع الكفر الذي اعتقدته الطوائف الضالة من البشر ، فإنه مع ذلك كلام متناقض لا يقبله عقل صريح ، إذ كيف يعتقد التوحيد والشرك في آنٍ واحد ؟!

5- له كلام يبطل به أركان الإسلام ، ومبانيه العظام ، وهي الصلاة والزكاة والصيام والحج .

6- كان يقول : إن أرواح الأنبياء أعيدت إلى أجساد أصحابه وتلامذته ، فكان يقول لأحدهم : أنت نوح ، ولآخر : أنت موسى ، ولآخر : أنت محمد .

7- لما ذُهب به إلى القتل قال لأصحابه : لا يهولنكم هذا ، فإني عائد إليكم بعد ثلاثين يوماً . فقتل ولم يَعُدْ .

فلهذه الأقوال وغيرها أجمع علماء عصره على كفره وزندقته ولذلك قتل ببغداد عام 309 هـ . وكذا ذمه أكثر الصوفية ونفوا أن يكون منهم ، فممن ذمه الجنيد ، ولم يذكره أبو القاسم القشيري في رسالته التي ذكر فيها كثيراً من مشايخ الصوفية .

وكان من سعى في قتله وعقد له مجلساً وحكم عليه فيه بما يستحقه من القتل هو القاضي أبو عمر محمد بن يوسف المالكي رحمه الله . وقد امتدحه ابن كثير على ذلك فقال : وكان من أكبر صواب أحكامه وأصوبها قَتْلَهُ الحسين بن منصور الحلاج اهـ (البداية والنهاية 11/172).

وقال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله : ( مَنْ اعْتَقَدَ مَا يَعْتَقِدُهُ الْحَلاجُ مِنْ الْمَقَالاتِ الَّتِي قُتِلَ الْحَلاجُ عَلَيْهَا فَهُوَ كَافِرٌ مُرْتَدٌّ بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِينَ ; فَإِنَّ الْمُسْلِمِينَ إنَّمَا قَتَلُوهُ عَلَى الْحُلُولِ وَالاتِّحَادِ وَنَحْوِ ذَلِكَ مِنْ مَقَالاتِ أَهْلِ الزَّنْدَقَةِ وَالإِلْحَادِ كَقَوْلِهِ : أَنَا اللَّهُ . وَقَوْلِهِ : إلَهٌ فِي السَّمَاءِ وَإِلَهٌ فِي الأَرْضِ . . . وَالْحَلاجُ كَانَتْ لَهُ مخاريق وَأَنْوَاعٌ مِنْ السِّحْرِ وَلَهُ كُتُبٌ مَنْسُوبَةٌ إلَيْهِ فِي السِّحْرِ . وَبِالْجُمْلَةِ فَلا خِلافَ بَيْنِ الأُمَّةِ أَنَّ مَنْ قَالَ بِحُلُولِ اللَّهِ فِي الْبَشَرِ وَاتِّحَادِهِ بِهِ وَأَنَّ الْبَشَرَ يَكُونُ إلَهًا وَهَذَا مِنْ الآلِهَةِ : فَهُوَ كَافِرٌ مُبَاحُ الدَّمِ وَعَلَى هَذَا قُتِلَ الْحَلاجُ )اهـ مجموع الفتاوى ( 2/480 ) .

وقال أيضاً : ( وَمَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ذَكَرَ الْحَلاجَ بِخَيْرِ لا مِنْ الْعُلَمَاءِ وَلا مِنْ الْمَشَايِخِ ; وَلَكِنَّ بَعْضَ النَّاسِ يَقِفُ فِيهِ ; لأَنَّهُ لَمْ يَعْرِفْ أَمْرَهُ ) .اهـ مجموع الفتاوى ( 2/483 ) .

للاستزادة يراجع :

تاريخ بغداد للخطيب البغدادي ( 8/112-141) . المنتظم لابن الجوزي ( 13/201-206) . سير أعلام النبلاء للذهبي ( 14 / 313-354 ) . البداية والنهاية لابن كثير ( 11/132-144) .

والله الهادي إلى سواء السبيل.

الإسلام سؤال وجواب
الشيخ محمد صالح المنجد

Reality of Sufism by Ibn Taymiyya



















































Cont..p/2

No comments: